|
نہ بہاروں سے، نہ خزائوں سے
مجھ کو شکوہ ہے ان ہوائوں سے
ايک مدت سے اب يہ عالم ہے
گھورتا ہے کوئي خلائوں سے
دھوپ ميں جسم جل گيا ميرا
دور ہو کر تمہارے گائوں سے
دھوپ کے شہر ميں چلا آيا
تيري زلفوں کي نرم چھائوں سے اے خدا ديکھ
تيري دھرتي پر
آدمي لٹ گيا خدائوں سے کاش ايسا ملے ضياء
کوئي
کھيچ لے خار جو کہ پائوں سے
|