نہ ہي کچھ وہ سنتا ہے نہ ہي کچھ سناتا ہے
ديکھ کر ميري حالت صرف مسکراتا ہےآندھيوں کي زد ميں بس وہ شجر
ہي آتا ہے
جس کي ٹيہنيوں پر وہ آشياں بناتا ہے
موسموں کي بے رنگي بھولتي نہيں اس کو
پھول جب بھي کھلتے ہيں وہ ٹھٹھک سا جاتا ہے
قربتوں ميں رکھتا ہے دوريوں کو حائل وہ
چاہتوں کے موسم ميں نفرتيں اگاتا ہے
سائے سے گلا کيسا، سائے کي ہے مجبوري
تيرگي کے لمحوں ميں ساتھ چھوڑ جاتا ہے
|