ہر ايک آنکھ ميں پھيلے سراب کيسے ہيں
رخوں پہ چھائے ہوئے اضطراب کيسے ہيںنہ چاہتيں نہ مروت ، نہ گم
گساري ہے
مرے خدا يہ دلوں پر عذاب کيسے ہيں
نہ بانکپن ہے، نہ شوخي ہے اور نہ خوشبو ہے
ترے چمن کے يہ تازہ گلاب کيسے ہيں
يہ جان کر بھي کہ تم اور ہي کسي کے ہو
تمہاري ياد کے دل پر سحاب کيسے ہيں
ہزار لفظ ورق تا ورق بکھيرے ہيں
مگر کتاب کے خالي يہ باب کيسے ہيں |