رات دن خون مجھ کو رلايا نہ کر
ياد آيا نہ کر، ياد آيا نہ کرچاندني کي طرح گھر ميں اترانہ کر
ميري پلکوں پہ تارے سجايا نہ کر
اپنے ہمراہ يادوں کے ديپک لئيے
يوں دبے پائوں خلوت ميں آيا نہ کر
آنکھ کے اشک گر پونچھ سکتا نہيں
ميري حالت پہ بھي مسکرايا نہ کر
بھولنا تيري عادت ميں شامل سہي
ہر کسي بات کو بھول جايا نہ کر |