روز کہتا ہے کوئي يہ تيرگي چھٹ جائے گي
ميں سمجھتا ہوں اسي ميں زندگي کٹ جائے گياک تجھ سے ہي شنا سائي
تھي پورے شہر ميں
کيا خبر تھي تو بھي ميري راہ سے ہٹ جائے گي
کيا خبر تھي پيار کي شمع کي يہ مدھم سي لو
اس ہوا کے راستے ميں اس طرح ڈٹ جائے گي
ہے بہت دشوار سوچوں کے نگر کا راستہ
سر سے لے کر پاؤں تک تو دھول ميں اٹ جائے گي
آنکھ بھي پتھر کي ہو جائے گي اک دن اے ضياء
ايک دن ايسا بھي آئے گا زباں کٹ جائے گي |