طلب کي رہ ميں، رہبر ہر اک طلب کا ہے
حسين سب کے لئے ہے حسين سب کا ہےہر ايک دن بھي ہے اس کا ہر ايک
شب اس کي
سحر کا نور ہے روشن چراغ شب کا ہے
حسب کي بات کريں پھر بھي منفرد ہے حسين
وہ بے مثال ہے گر سلسلہ نسب کا ہے
ہر ايک دور کے مظلوم کي وہ ڈھارس ہے
شہيد کرب و بلا ہے حسين سب کا ہے
کہ اس نے بخشي ہے مجھ کو محبت پنج تن
ضياء يہ خاص کرم مجھ پہ ميرے رب کا ہے
|