|
سارے ساتھي بے گانے سے سارے رشتے
سوتيلے
کون ہمارے آنسو پونچھے ہم تو ٹھرے سوتيلے
دن نکلا تو سورج کي کرنوں ميں سوتيلا پن
تھا
شام ڈھلي آکاش پہ چمکے، چاند ستارے سوتيلے
بچپن سے ماں کي ممتا کو ترسے ہيں ہم
ديوانے
آج ہميں لگتے ہيں اپنے گھر کے رستے سوتيلے
تب مجھ پر يہ بھيد کھلا کيوں خوف سادل
پر طاري تھا
اپنے پن کي چادر سے جب باہر نکلے سوتيلے
ميں نےجن چھائوں بانٹي ميں نے جن کا ساتھ
ديا
چھوڑ گئے تنہا مجھ کو، وہ دھوپ کنارے سوتيلے |