سر کٹا کےديتے ہيں،امتحان چاہت کا
اس طرح بناتے ہيں سائبان چاہت کا
نفرتوں کي بستي ميں کوئي بھي نہيں اپنا
آپڑا ہے کاندھوں پر امتحان چاہت کا
چاہتوں کے رنگوں سے يہ زميں منرّين تھي
اس زميں پہ پھيلا تھا آسمان چاہت کا
اب خلا کي وسعت ميں گھورنا مقدر ہے
کيا کہيں کہ کيسا ہے، يہ جہاں چاہت کا
رنجشيں بڑھيں اتني، ہو گئے سبھي تنہا
مِٹ گيا ضياء آخر ہر نشاں چاہت کا
|