شہر کے حاکم سوچ زرا يہ بار ترے سر آئے گا
بھوکا بچہ تو روٹي کي ضد کر کے سو جائے گايہ سونے کے زيور ،يہ
ريشم کے اجلے ملبوسات
خوش قسمت ہوگا جو اپني بہنوں کو پہنائے گا
ميرے ساتھ چلو گے کب تک دکھ کے تپتے صحرا ميں
يہ جيون ايسا رستہ ہے دور تلک جو جائے گا
جو بن پر ہوگا تو سب کي آنکھوں کا تارا ہوگا
قدموں ميں آجائے گا جب پھول کوئي مرجھائے گا
ميں بھي اپنے ہونٹوں پر خاموشي کو پھيلا دوں گا
جب اپنے جذبوں کو وہ اپنے ہونٹوں پر لائے گا |