تيرگي بڑھائے گا، روشني گھٹائے گا
آج کا نيا سورج اور کيا دکھائے گاميں تو کھل کے روئوں کا اپني
کم نصيبي پر
مجھ کو لوٹنے والا قہقہے لگائے گا
جانے کتنے برسوں سے جو مسافرت ميں ہے
کون اس مسافر کو راستہ دکھائے گا
ميرے تشنہ لب مجھ کو سرخرو کريں گے اب
ميرا درد ہي ميرا حوصلہ بڑھائے گا
بے کسي کے عالم ميں ساتھ چھوڑنے والا
حسرتوں کے لاشے کو کس طرح اٹھائے گا
|