تيري آنکھوں ميں اترنا چاہتے تھے
خواب کي صورت بکھرنا چاہتے تھےتيرے قدموں سے بھي کتنے دور ہيں
جو تري بانہوں ميں مرنا چاہتے تھے
مفلسي نے کچھ نہيں کرنے ديا
کچھ نہ کچھ تو ہم بھي کرنا چاہتے تھے
خواب تک وہ لوٹ کر ہيں لے گئے
رنگ آنکھوں میں جو بھرنا چاہتے تھے
خار تک نالاں تھے ان سے اس لئے
پھول راہوں میں بکھرنا چاہتے تھے
زندگي بھر کي رياضت کو ضياء
ہم کسي کے نام کرنا چاہتے تھے۔ |