تري زلفوں کو ميں سلجھا رہا ہوں
پر اندر سے الجھتا جا رہا ہوںاذيت دے کے اپني زندگي کو
ميں اپني روح کو کڑ رہا ہوں
وفائوں کا صلہ ايسا ملہ ہے
وفا کے نام سے تنگ آگيا ہوں
جو اپني آنکھ سے ديکھا ہے ميں نے
وہي اوروں کو بھي دکھلا رہا ہوں
وہ اچھے دن نے آئيں گے پلٹ کے
ضيا يوں ہي تجھے بھلا رہاہوں |