|
انگلياں، اٹھنے لگيں کردار پر
لگ گئے تالے لب اظہار پر
اے ميري دھرتي تو اب آنسو بہا
بے خطا بيٹوں کے حال زار پر
تيرگي اپنا مقدر ہوگئي
وحشتيں سي چھاگئيں گھر بار پر
لفظ بے قيمت ہوئے کچھ اس طرح
سرخياں ہنسنے لگيں اخبار پر
جانے کس کا نام ہے اب تک ضيا
جس کي ٹوٹی ہوئي ديوار پر |