اتار نعمتيں دھرتي پہ آسمانوں سے
صدائيں آتي ہيں، غربت زدہ مکانوں سےوہ لکھ رہا ہوں جو آنکھوں سے
ميں نے ديکھا ہے
وہ کہہ رہا ہوں سنا ہے جو اپنے کانوں سے
جو سن تو سکتے ہيں پر بولنے سے قاصر ہيں
ميں ہم کلام ہوں ايسے ہي بے زبانوں سے
بہار ہي نہيں اے جان جاں تمہارے بعد
چلے گئے ہيں پرندے بھي آشيانوں سے
کوئي تو اس کو بتائے اسے خبر ہي نہيں
حقيقتيں ہيں ضياء مختلف فسانوں سے |