وقت کے ماتھے پر جو لکھا ہے کيوں پڑھتے نہيں
شہر تو اندھا ہے ليکن لوگ تو اندھے نہيںظلم سہنے کي يہ عادت ختم
کردے گي انہيں
ظلم سہتے ہيں مگر ہونٹوں سے کچھ کہتے نہيں
چل پڑيں تو قافلوں کا بھي نہيں کرتے خيال
راستوں ميں جب نکلتے ہيں قدم رکتے نہيں
جس جگہ جھکنا اصولوں کے منافي ہو وہاں
سر کٹا ديتے ہيں ليکن ہم کبھي جھکتے نہيں
پيار کے رشتے ، سبھي رشتوں پہ بھاري ہيں ضياء
پيار کے رشتوں سے بڑھ کر خون کے رشتے نہيں |