وہ کون سا عذاب ہے جس کو سہا نہيں
اس جرم کے لئے کہ جو سر زد ہو انہيںاس دور ميں بھي سنتا نہين
تھا کوئي صدا
اس دور ميں بھي کوئي مرا ہم نوا نہيں
پاؤں ميں آبلے ہيں دن چور چور ہے
کوئي سفر کا حال مگر پوچھتا نہيں
اپنے ہي گھر ميں خود کو ميں لگتا ہوں اجنبي
روتا ہوں ميرے اشک کوئي پونچھتا نہيں
کتني قيامتيں مرے سر سے گزر گئيں
وہ شخص ہاں وہ شخص مگر جانتا نہيں
|