|
مشترکہ دولت
کچھ ملحے
ايسے بھي بيتے ہيں
جن کو ياد کرکےہم
صبح شام جيتے ہيں
وہ محبت کي ناموس سمجھاتے رہے
ہم خارزاراہوں ميں
اپنا تن من بچھا کے
وعدہ وفا کا نبھاتے رہے
دھوپ کڑي، ٹھنڈي چھائوں ميں
کتنے برس ايک ساتھ گزارے
بس ايک پل کي بات تھي
دل تو کيا ہم جاں بھي ہارے
کيا تمہيں نہيں معلوم
يہ دکھ کيسا ہوتا ہے
تم سب کچھ جانتے ہو
کہ يہ
ہم دونوں جيسا ہوتا ہے
|