|
|
| غزل |
اپنے بستر پہ کروٹيں بدلتے ہوئے
ميں نے ديکھا کہ اس نے تھاما ہے ہاتھ ميرا
اپني باہوں ميں لے کر پيار بھري باتيں کرنے لگا
کبھي کہا کہ چاند سے ہے زيادہ خوبصورت
کبھي ميري زلفوں سے کھيلنے لگا
تم تو صبح کي پہلي کرن ہو
شام کے ڈھلتے ہوئے سائے کي طرح
چاند بھي تم کو ديکھ کر شرما جاتا ہے
اپني آنچل ميں چھپاؤ تو رات ہو جائے
شام تنہائي تو ميري گزر جائے گي
مگر يہ تيرے بغير ممکن نہيں
زندگي کے سفر ميں ہميشہ ميرے ساتھ چلنا
ميں نے کہا يہ کيا ديوانہ پن ہے
اس نے کہا يہ ميں نہيں م ميري ديوانگي ہے
باتيں کرتے ہوئے ہم ايک دوسرے ميں کھو گئے
پھر ياد نہيں رہا کہ کب صبح ہوئي اور کب شام ڈھلي
اے جان وفا
ميں ہميشہ تمہارے ساتھ ہوں
بس اتنا مجھے ياد رہا
کہ جب ميں نے تھاما ہاتھ اس کا
تو خوابوں کا بھرم ٹوٹ گيا
تو جب ميري آنکھ کھلي
تو ديکھا
کل رات ميں اکيلي تھي |
|
 |