ہم سے کوئي کيوں محبت کا اظہار کرے
ان کو ہو پيار مگر پھر بھي وہ انکار کرےاپنا سايہ بھي نہ رہا بس
ميں ميرے
اب زندگي کا کوئي کيا اعتبار کرے
ہم نے سجدے کيے جب بھي ميخانوں ميں
ساقي ہر بار ہي مجھے گنہگار کرے
زہر دينے لگے وہ اپنے ہاتھوں سے
ان کي ہر ادا ہميں بے قرار کرے
ہچکياں آنے لگي ان کي باہوں ميں
اب ہم کيسے زندگي کا انتظار کرے
اس نے حال دل سنايا نہيں ہم کو
اب کيسے وہ ميرا ديدار کرے
شباب زندگي تو نے سونپ دي اس کو
اب بھي وہ مجھ سے دل ہي دل ميں پيار کرے |