|
|
| غزل |
محبتوں کي منزل پر مير اانتظار کرنا
فرصت ملے تو کبھي ان کو تم شمار کرنا
کب تلک يونہي تو دھوکا دے گا مجھے
خود کو دے کر دھوکا ميرا اعتبار کرنا
کٹ کے دنيا سے جا بيٹھنا تنہائي ميں تم
کبھي ہنس کر کبھي رو کر خود کو بے قرار کرنا
ہاتھوں کي لکيروں ميں بسانا کبھي ہم کو
کٹ جائے تيرے ہاتھ تو ہم کو ہي گنہگار کرنا
آنکھيں بھر آئے زندگي ميں کبھي اشکوں سے
پر نم زندگي کي خوشبوؤں سے مہکار کرنا
اداس ہونے کے دن ابھي آئے نہيں
شباب ان کي نزر چند اشعار کرنا |
|
 |