|
|
| غزل |
رونے لگي وہ ديکھ کر ميري شام تنہائي
ياد کسي کو آئي جب ميري شام تنہائي
ميں چلا ہوں محواس راستے پر
ديکھے جہاں وہاں صرف شام تنہائي
ملے تھے کبھي ہم ان راستوں پر
ڈسنے لگي ہے اب مجھے شام تنہائي
متصل ہے ميرے ساتھ غم جاناں
اک میں ہوں اور ميري شام تنہائي
مبالغيں ہيں ان کے خيالات ميں بہت
ہراساں ہوئے وہ ديکھ کر شام تنہائي
گردش ايام کرتي ہے اس کا طواف
ہر شام کے بعد اک نئي شام تنہائي
تنہا نہیں صرف تم بھي اس شہر ميں
ہر کسي کے ساتھ اک شام تنہائي
ہجر کي شام گزرنے لگي ہے مگر
کيوں بے چين ہے تيري شام تنہائي
وہ اپنے زعم ميں بے خبر ہے شباب
چونک گيا ديکھ کر وہ ميري شام تنہائي |
|
 |