وہ شخص اس قدر کبھي مجھ سے خفا نہ تھا
يہ دل بھي اس قدر تو پريشاں رہا نہ تھاعمر دراز اس کي عبادت ميں
کٹ گئي
يہ اور بات ہے کہ وہ ظالم خدا نہ تھا
اس کے سوا کسي سے محبت نہ تھي مجھے
وہ ہي تھا شہر دل میں کوئي دوسرا نہ تھا
کيا کچھ نہ تھا مرے لئے ميرا وہ ہمسفر
بس ايک ہي کمي تھي کہ دردا آشنا نہ تھا
کيفي ہمارے بعد وہ کہتے سنے گئے
کيفي برا ضرور تھا اتنا برا نہ تھا |