بار بار ہم نے آزمايا ہے
ہر ايک کو حکمران بنايا ہے
مگر حاصل کچھ نہ پايا ہےجمہوريت کو بھي
پرکھا ہے
فوج کو بھي آزمايا ہے
مگر حاصل کچھ نہ پايا ہے
مظلوم عوام نے آواز کو اٹھايا ہے
احتساب کا دروازہ بھي کھٹکھٹايا ہے
مگر حاصل کچھ نہ پايا ہے
ہر ايک نے ہميں روليا ہے
ہر ايک نے ہميں ستايا ہے
مگر حاصل کچھ نہ پايا ہے
اور کرسي جس نے بھي پائي ہے
اس نے اپنا آپ بنايا ہے
مگر حاصل کچھ نہ پايا ہے |