کہنے ميں کوئي عار نہيں
ہميں کسي سے پيار نہيںچاہت سے جسے چاہا
تھا
اسے ہم سے کوئي سروکار نہيں
اور خوابوں تو اپنا کہتے ہيں
مگر حقيقت ميں وہ اظہار نہيں
اور جدائي جس کي پل بھر برداشت نہيں
اس کو ہمارا کو يا ذرا سا بھي انتظار نہيں
اور ہم ان کے لئے راتوں کو اٹھ کر روئيں
اور وہ بے وفا بے قرار نہيں
اور پہچاننے ميں بھول ہوئي اے عرفان
کہ اس بے وفا کا تو کوئي اعتبار نہيں |