دل گر ہے بے قرار، تو چھلني جگر بھي ہے
بائے شب تاريک اور آندھي کا ڈر بھي ہےاس درد انتظار کا الزام
کسے دوں۔۔؟
باعث ہے گر جنوں تو کچھ نامہ برق بھي ہے
تڑپے ہے يہ دل بسمل پابند کي طرح
زحمي تيرے ستم سے کچھ اور بے ہنر بھي ہے
آواز کو کيوں طاقت پروانہ نہ رہي
موجود جسم و جاں پہ ابھي ميرا سر بھي ہے
خوش بختي و عروج کا ہما کہاں ہے تو؟
آ ديکھ اس جہاں ميں اک ميرا گھر بھي ہے |