جانے کب آئے گا ہوا کا جھونکا ان کي گلي سے
کب مہکے گا پھول اس چمن ويراں کا
ميري سوچوں پہ فقط اسي کا اختيار ہے
مرکز ہے جو ميرے شعر و بياں کاہر بار
کہتا ہوں اظہار وفا کروں گا ان سے
کھلتا نہيں قفس ہر باري ميري زباں کا
وہ ميري روح ميں اس طرح سما گيا ہے سحارب
تعلق نہيں ہے اس سے کوئي جسم و جان کا |