نشہ پيار میں مست تم چلے ہو کہاں
خيال يار ميں ہو کے گم چلے کہاںبے قراري
کو خود تم نے اپنے لئے چنا ہے
سميٹے ہوئے جدائي کا غم چلے ہو کہاں
اس دنيا ميں کوئي بھي تو اپنا نہيں
ڈھونڈتے کوئي اور ہمدم چلے ہو کہاں
پريشاني دل ميں کسي سے کيا بياں کرتا
کھريد کر ميرے زخم چلے ہو کہاں |