|
|
| غزل |
وہ مجھے اکثر بہت ياد آيا کرتي ہے
خوابوں ميں آکر وہ مجھے ستايا کرتي ہے
چاندني راتوں ميں جب ميں سوچتا ہوں اسے
ميري آنکھوں ميں اس کي تصوير بن جايا کرتي ہے
ميري آنکھوں ميں اس کي تصوير بن جايا کرتي ہے
ميں اس سے کرتا ہوں کوئي بات
ہر بارہ وہ مجھے لاجواب کر جايا کرتي ہے
وہ قيامت بہت لگتي ہے جب
کھلي زلفوں ميں ميرے سامنے آيا کرتي ہے
اس کيلئے کچھ بھي کر جائے گا
وقاص يہ بات اکثر اسے ياد آکر کرتي ہے |
|
 |