|
|
| عبث نوشتہ |
عبث نوشتہ ديوار ہو نہيں سکتا
کہ دائمي تيرا پندرا ہو نہيں سکتا
ميں آشنائے تب و تاب خندہ براق
قتيل خندہ اغيار ہو نہيں سکتا
کليم طور سے سيکھا ہے ميں نے يہ نکتہ
حجاب مانع ديدار ہو نہيں سکتا
ميں تھک کے سويا ہوں اک عمر انتظار کے بعد
فغان يار پہ بيدار ہو نہيں سکتا
ترے عدو سے مري رسم و راہ نا ممکن
نہيں نہيں ميري سرکار ہو نہيں سکتا
ہے باغباؤ سے شکايت يہ عندليبوں کو
کہ خار وارٹ گلزار ہو نہيں سکتا
منير سود و زياں پر نگاہ ہو جسکي
متاع غم کا خريدار ہو نہيں سکتا |
|
 |