|
چاندني اک سراب ہے شايد
آج وہ بے نقاب ہے شايد
خندہ يار من ذرا ديکھو
کوئي کھلتا گلاب ہے شايد
دودھيا رنگ ميں ملي سندور
شرم ہے يا عتاب ہے شايد
قريہ حسن ميں فقير ہيں سب
وہ اکيلا نواب ہے شايد
مسکرا کر ملا کرو ہم سے
اسکا بھي کچھ ثواب ہے شايد
چشم تر سے جو ديکھے تو لگے
يہ جہاں زير آب ہے شايد
اشک سے کرچکي وضو آنکھيں
وہ مقدس کتاب ہے شايد
نوحہ گر ہے قريب ملبہ دل
کوئي خانہ خراب ہے شايد
گر يہ زن ميںہوں اور وہ کہتے ہيں
يہ سمندر سراب ہے شايد
آہ وہ گريہ، جنون، رسوائي
عاشقي کا نصاب ہے شايد
سب سے ملتے ہيں وہ مگر قاسم
اپني قسمت خراب ہے شايد |