|
|
| غلط تھے |
غلط تھے سارے سوال انکے غلط تھے ميرے جواب سارے
کسي کے پيش نظر انا تھي، کسي کے توٹے ہيں خواب سارے
کسي کي قسمت ميں خاک تربت، کسي کي قسمت ميں زلف جاناں
دکھائي ديں لاکھ ايک جيسے نہيں ہيں يکساں گلاب سارے
ہوئي ہے سيراب چشم تشنہ سراب کي لہر آتشيں سے
کہ اک حقيقت سراب بھي ہے، جسے ہيں دريا سراب ہمارے
ثواب کيا ہے عذاب کي اہے، وعيد يوم حساب کيا ہے
خدا کے عاشق کي ديد ہوگئي، ہٹيں گے جسدم حجاب سارے
نيا زمانہ، نئے تقاضے، نئي شرعيت، نيا خدا ہے
ہوائے افرنگ يوں چلي ہے، بدل گئے ہيں نصاب سارے
جو وجہہ مثق سخن رہا تھا اسے بھلانے کے بعد کل جب
منير ميں نے بياض کھولي، تو کھل گئے پھر حساب سارے |
|
 |