|
ہوگيا اسکو منانا کار جوئے شہر کا
کيا ہمارے بيچ بھي ہے مسئلہ کشمير کا
مار کن سے اب تلک ہستي ہے سر گرم سفر
پائے گردوں پر بنا ہے آبلہ تنوير کا
لکھ کے قيد زندگي اس نے قلم رکھا نہيں
سہو آدم کو لکھا موجب مري تعزير کا
چھا چکا ہے خاوراں پر ابر تہذيب فرنگ
چھپ گيا سورج مرے اسلاف کي توقير کا
جب نہيں انصاف ملتا شاہ کے دربار ميں
کچھ نہ کچھ مطلب تو ہے آخر وہاں زنجير کا
چاک دل ہے تير بھي صدمے سے دوہري ہے کمان
دست ظالم ميں ہوا قبضہ بھي شق شمشير کا
کيا کہوں قاسم کہ حق منت کش باطل ہے آج
يہ نمونہ ہے مري بگڑي ہوئي تقدير کا |