|
ہوں قاسم ضيا ميں گھر ميں ديا نہيں ہے
شوق سخنوري نے کچھ بھي ديا نہيں ہے
گردن ردن عبث ہوں اے جان مد عاسن
آنسو چھلک پڑے خود کچھ بھي کہا نہيں ہے
تيري نظر ميں جس سے فن معتبر ہو ميرا
وہ حرف شائد اب تک ميں نے لکھا نہيں ہے
بے آہ نيم شب کچھ ملتا نہيں خدا سے
ہم غافلان شب کا پھر کيا خدا نہيں ہے؟
کچھ سازگار انجم درکار ہيں جفا کو
ہم تيرہ بختگاں کو شيوہ جفا نہيں ہے
کيوں غير کو بتائيں ہم وجہہ بے قراري
اپنا تو کوئي ہمدم تيرے سوا نہيں ہے
تقسيم حسرت و غم ہے کاربار قاسم
مقسوم ہي يہي تھا قاسم برا نہيں ہے |