|
|
| کس خواب |
کس خواب پريشان کي تعبير ہوا ہے
بےجرم و خطا واجب تغريز ہوا ميں
ميں نائب يزداں ہوں اگر کار جہاں ميں
کيوں بحر جہاں لائق تحقير ہوا ميں
ريزے ہوا ميں ٹوٹ کے اک سنگ نظر سے
پاني يہ بنائي ہوئي تصوير ہوا ميں
ميں کچھ نہيں ہے سب تيري عطا کا
گر ريختہ گر قابل توقير ہوا ميں
سلجھتا ہوں خو کو تو الجھ جاتا ہوں کچھ اور
پابند خم زلف گرہ گير ہوا ميں
افسانہ تيرا تشنہ تکميل ہے اب بھي
ٹوٹا ہے قلم ، عاجز تحرير ہوا ميں
گر يہ تو عبث خوئے نظر ہے سورواں ہے
کب طالب شنوائي و تاثير ہوا ميں
آزادي اظہار پہ قد غن تو نہيں تھي
کيا جانئيے کيون تشنہ تقرير ہوا ميں
شاعر نہ سمجھ، ميں تو فقط قاسم غم ہوں
غالب نے کہا معتقد ميرا ہوا ہے |
|
 |