|
ميں نے ساري عمر لکھا پر رہي ادھوري بات
ايک نظر ميں اس نے لکين کہہ پوري بات
اپني اپني جگہ پہ تھے ہم دونوں ہي مجبور
وہ آہٹ سے بھي خائف ميري مجبوري بات
کانپتے ہاتھوں فون کيا پر لفظ نہ آئے ہاتھ
کہنا تھا اور کہہ نہيں پايا ايک ضروري بات
فون پہ بات ہوئي اور آنکھيں اب تک ہيھں مخمور
کان کے رستے آنکھوں تک لائي مخموري بات
خوشبوئوں کا ميال سا ہے ہر دم اس کے ساتھ
دانت چنبيلي، گال گلابي اور ہے کستوري بات
نطق کہے يا نوک قلم يا آنکھوں کي برسات
ايک کہاني، ايک نتيجہ، ايک منصوري بات
فن کے جھنگ کا رانجھا ہوں ميں مجھے کويتا ہير
کيدو ساري دنيا ہے اور ميري چوري بات
بات سے پيٹ بھرا کے کس کا اس کو يہ سمجھائو
قاسم پگلہ کہتا ہے ميري مزدوري بات |