|
|
| پار آنکھوں |
پار آنکھوں سے گذر جائوگي معلوم نہ تھا
سوئے دل بحر نظر جائوگي معلوم نہ تھا
جانتا تھا کہ تم آئو گي معلوم نہ تھا
صورت ابر کرم تھا تيرا آنا جاناں
صورت برق و شرر جائو گي معلوم نہ تھا
عکس بنکر کبھي احساس کا جگنو بن کر
ميري آنکھوں ميں ٹہر جائوگي معلوم نہ تھا
وقت رخصت تيري حالت پہ تھا حيران ميں بھي
خود سے کہتي تھيں کدھير جائوگي؟ معلوم نہ تھا
سنگ بے جذبہ ہي جانا تھا مگر بال آخر
ٹوٹ کر تم بھي بکھر جائوگي معلوم نہ تھا
چند لمحے بھي خفا تم سے نہ رہ پائوں گا
دل مین اس درجہ اتر جائوں گي معلوم نہ تھا
جي رہا تھا تيرے وعدے کے سہارے قاسم
اپنے وعدے سے مکر جائوگي معلوم نہ تھا |
|
 |