|
پھر سے طواف کوئچہ زہرا جمال کر
ممکن ہے دل کہے اسے پرسان حال کر
دھڑکن وجوديار ميں دل ہو تمہارے پاس
اےجذبہ جنون کچھ ايسا کمال کر
انکار عشق اسکا ہے اقرار کي نويد
آغاز کار بھول جا فکر مال کر
بار جنوں سےہو ہي گيا منکشف وہ آج
رکھا تھا ايک راز جو دل ميں سنبھال کر
اس کو حجاب کا مجھے سودا ہے ديد کا
جي چاہتا ہے بھيج دوں آنکھيں نکال کر
انکار جام ديد پر جام وصال مانگ
کچھ اور بھي دو آتشہ اسکا جلال کر
جل کر سوال وصال پر اس شوخ نے کہا
اس عمر ميں يہ شوخياں کچھ تو خيال کر
اسکي سخاوتوں کے ہيں در سب پہ وا منير
پھيلا کے کاءسہ دل خستہ سوال کر |