|
سمجھا رہي ہيں بلبليں باغوں کے درميان
دکھ بولتا ہے کس طرح نغموں کے درميان
قيد سخن ميں کس طرح آتي ہے حديث غم
کچھ کانپتے حروف تھے آہوں کے درميان
عشاق تيري کھوج ميں نکلےتو تھے مگر
ہيں آبلہ پا، نيم جاں راہوں کے درميان
رخ سے نقاب جب تيرے سرکا ہوا کے ساتھ
برباد دل ہوا نہيں لمحوں کے درميان
انکار عشق بھي بجا، بر حق حجاب بھي
پھر شورتيں ہيں کيوں تيري سانسوں کے درميان
دل بادشاہ وقت عمر ہے کنيز وقت
دل کو کہاں کا فاصلہ عمروں کے درميان؟
نہ جانے کون سوختہ دل تھي جو رو پڑي
ميري کتاب تھام کر باہوں کے درميان
دل کھينچتا ہے اک طرف اور اک طرف دماغ
قاسم کھڑا ہوا ہے دو رستوں کے درميان |