|
|
| تو مجھ سے |
تو مجھ سے دور ہے، ليکن تيرا خيال نہيں
جدائي بھي تو نہيں ہے اگر وصال نہيں
گدائے ديد کو ہو حسن کي زکواتھ ادا
کہ مال پاک اگر ہو تو پھر وبال نہيں
غرور حسن عبث ہے مرے جميل يہاں
ترا جمال کيا؟ کچھ بھي لازوال نہيں
اسے يہ ضد ہے تو پھر بھول جا اسکے بغير
کھٹن ضرور ہے جينا مگر محال نہيں
ميرے خيال ميں جنبش ترے کرم سے ہے
وگرنہ مجھ ميں کوئي رمز با کمال نہيں
عطا ہو آہ سحر، نالہ رسا يارب
ترے کرم سے تو بالا مرا سوال نہيں
متاع خواہش يوسف کي قدر کيا ہے منير
چلے ہو جانب کنعاں گرہ ميں مال نہيں |
|
 |