|
|
| زخم در زخم |
زخم در زخم عبارت ہيں عنايت کے رنگ
اشک در اشک عياں ميرے مناجات کے رنگ
ديکھ سونامي عبارت مرے چہرے پر
مجھ کو بخشے ہيں ترے ہجر نے آفات کے رنگ
تو نے کر ڈالا لہو رنگ مرا رنگ سخن
حرف خوناب کريں تيري کرامات کے رنگ
عشوہ و غمزہ و انداز و قد يار طلسم
نوک خامہ سے امڈتے ہيں طلسمات کے رنگ
خود تماشا بنا جو شخص تماشا گر تھا
پردہ زيست پے ہيں گردش اوقات کے رنگ
يار ہر جائي ملا اس کو بھي ميري ہي طرح
اس کے چہرے پہ ابھر آئے مکافات کے رنگ
کس سے ناگاہ ملي نظر مہر تاب منير
کس نے پہنا دئيے انور کو ظلمات کے رنگ |
|
 |