|
|
| بات کہنے کي |
بات کہنے کي نہيں محسوس کرنے کي ہے
کئي ان ديکھي ديواريں حائل ہو گئيں ہم میں
کيا ضروري تھا کہ تم وہ بات خود ہي کہتے
ان کہي باتوں کو محسوس کر ليا ہم نے
جفا کر کے نہ رکھنا ہم سے وفا کي اميديں
ہم ہيں کچھ اور طرح کے يہ بتا ديا ہم نے
خلوص ،دوستي، وفا، اميد کچھ بھي نہيں
يہ آج محسوس کر ليا ہم ن
ےہم نے تو اجنبيت کي ديواريں گرائي تھيں
يہ کس ديوار کو اٹھا ديا تم نے
تم اسے سن کر بھي ان سني کر دو
مگر جو جان ليا ہم نے وہ بتا ديا ہم نے
|
|
 |