|
|
| بے سبب |
بے سبب
اداسي ہے کچھ دنوں سے
يوں ھوا ہے کچھ دنو سے
جيسے جينا ہر لمحہ عذاب ہوا ہو
جيسے ہر رت خواب ہوئي ہو
يوں ہوا ہے کچھ دنو سے
بے سبب سي اداسي ہے کچھ دنو ں سے
جيسے جينے کي خواہش ميں روز مرتے ہوں
جيسے آس کي ڈوري ہاتھ سے چھوٹتي ہو
روزخواب مرتے ہوں
آنکھوں میں ہے چبھن کچھ دنو سے
ايسا ہوا ہے کچھ دنو ں سے
پھولوں کے سفر میں خار چبھتے ہوں
انجانے رستوں کي کشمکش نے
قدموں کو جيسے جکڑا ہو
يوں ہوا ہے کچھ دنوں سے
ميں چاہتا ہوں کہ
ہر لمحہ گلاب ہو ۔اداسي رتوں کا گزر نہ ہو
خوشي ہو ہر طرف رقصاں
یوں کوئي بے سبب نہ اداس ہو۔
يوں ہوا ہے کچھ دنو ں سے
|
|
 |