|
آتيرے بغير يار پل پل گزارہ نہيں جاتا
ميں صدا دوں تو نہ آئے تجھے پکارا نہ
لوگ کہتے ہيں ميں ڈوب رہا ہے ہوں بيچ سمندر
پر قدموں سے تو ميرے کنارہ نہيں جانا
جانے کيسے کٹ جاتي ہے رفتہ رفتہ قيامت بھي
دنجاتا ہے آنکھوں سے عکس تمہارا نہيں جاتا
ہےمحبت نام امتحان کا زخم بے نشان کا
کسي طرف مگر يہ سينے کا انگار نہيں جاتا
چار دن کي زندگي وہ بھي کٹتي جائے مسلسل
مقدر تک مگر کوئي اثر ہمارا نہيں جاتا
دن بھر تو بھٹکتا پھرتا ہے تيرے خيالوں ميں
انکي گلي ميں جانے کيوں يہ آوارہ نہيں جاتا
|