|
آنکھيں برستيں ہيں دل کو ملال ہوتا ہے
روبرو جب کبھي بھي تيرا خيال ہوتا ہے
لے قسمت وہ بھي ہيں ديکھنے آئے
نکلا محبوب سے کيا کمال ہوتا ہے
پلٹ کر سوچا نہيں بے خبر نے کبھي
صحرا ميں پياسے کا کيا حال ہوتا ہے
تجھ سے شکوہ کرئے کون رہبر
انجام سفر قسمت کا کمال ہوتا ہے
پھر ملنے کا کہنے والا کيسے مليں اسے
رکا وہيں جس کي قسمت کا سال ہوتا ہے
|