|
دشت ميں اجڑے لوگوں کي جلوت کا منظر ديکھا
تب سے خود سوزي اور ماتم اچھے لگتے ہيں
ٹوٹي ہوئي شاخ بکھرے شجر اچپے لگتے ہيں
ويران دل کو پت جھڑ موسم اچھے لگتے ہيں
ہر شخص رنگ جائے تيرے دئيے رنگ ميں
اجڑے ہوئے اداس لوگ اچھے لگتے ہيں
وہ نہيں بھرتے قسمت کي رگوں ميں کانٹے
ہميں پتھروں کے يہ صنم اچھے لگتےہيں
اپنے پياروں کو وہ صحرا ميں چھوڑگيا
لگتا ہے اسے بے نام رستے اچھے لگتے ہيں
سدا ساتھ رہنے کي قسم کھا کر بچھڑنے والے
ہميں آج بھي بے فيض لوگ اچھے لگتے ہيں
|