|
اک شام اک عام سے دن
تيرے قہقہے نے
ہوا ميں رقص کرکے
شام کو جگمگا ديا
جانے کيوں دل ميں آيا
تو شايد ميرے لئيے نہيں
اک پاگل سا آنسو
ميري ہتھيلي تر کرگيا
آج بچھڑ کر سوچ رہا ہوں
ميري آنکھوں ميں تيرا عکس تو
آنکھوں نے گم کر ديا
مگر وہ شام
اس کا کيا ہوا
اک اور آو خسار پر سے پھلس گيا
شايد اس شام کا اخراج
|