|
کہاں گئي وہ صبح کہاں وہ شب و حال گئے
تم ہي بتائوں چلو مانا کہ ہم ہار گئے
تم بھي ہو بے ساماں اس بھري محفل ميں
ہم تو تھے ہي پاگل جو يوں کنگال گئے
تھي کبھي بے سبب پريشاني ہر بات پر فسوں
تم سے بچھڑے تو دکھوں کے کال گئے
ميري ہي آنکھوں ميں آنسو نہيں لايا وہ
بکھر اس کے بھي سب ہي خدو خال گئے
ابھي تو ياد ميں ہو پر دکھي ہے پھر بھي من
مشل ہوگا جينا جب دل سے خود کو تم نکال گئے
يوں تو تھے دونوں ہي مسافر اک ساتھ
يادوں کے دکھ ميرے کھاتے وہ ڈال گئے
|