|
راہوں پر ملے تھے راہوں پر بچھڑ گئے
ہوا بچھڑ نے کا دکھ نہ ہوا پورا ملنے کا خواب
بھلا کون جاننا چاہتا تھا تيرے خلوص کا سوال
ورنہ ترپتے پھرتے تھے مري روح ميں کئي جواب
پس پردہ ہي رہتے تيرے جلوے صد شکر
ادھر تو جينے ديتا ہي نہيں ديتا سراب
تڑپتے رہان ميرا ہي شوق تھا تيري ياد ہے
يوں تو ڈھونڈتي پھرتي تھي مجھے شراب
مانگو دعا کہ ہو جائے ميرے خلوص کا امتحان
ميں بھي تو ديکھو کون لاتا ہے برداشت کي تاب
چھوڑ ديا ميں نے خود کو رحيم کے کرم پر
جوکرتا ہے ناکام وہي کرے گا کامياب
|