|
تڑپ جاتي تيري بے بسي ہوجاتا اس احساس
اک جھلک جو ديکھتي ميري آنکھوں کي سلگتي پيساس
کہ کيوں رچي ہے ميري فطرت ميں تنہائي
آخر کيوں لگتي ہے ميري ہنسي بھي اداس
وقت تو گزر جانا ہے پر کرنا اس کا خيال
ٹوٹ جائے وہ گھڑا صحرا کو ہو فقط جس کي آس
اب جو بچھڑے ہيں تو ملوں گا خوابوں ميں
يوں تو بہت ہوں گے مجھ جيسے تيرے آس پاس
بادل کا بھروسا تھا اب تو کسي پر بھي نہيں
بہت ہي اکيلے ہيں تيرے بعد ميرے حواس
|