|
يہ ساري دربدري اک ٹھکانے کيلئے ہے
اک خواب واسطے اک آشيانے کيلئے ہے
لگتا ہو گم سا ہوں تھا ايسا تو نہيں
ميرا روٹھنا اس کو منانے کيلئے ہے
يوں تو کب اختيار ہوا ہے مجھے خود پر
اسے ياد کر اسے بھول جانے کيلئے ہے
کون شکوہ کرے نشتري تيري تيزي پر
زخم تو ہوتا ہي سہہ جانے کيلئے ہے
کرديتا ہے وہ بے خبر دنيا جہاں سے
يہ مے يہ جام ہوش ميں آنے کيلئے ہے
کون گراتا ہے آنسو رات بھر کس کو خبر
شمع جلنے کيلئے جلانے لينے ہے
شمع دل جلارہا ہوں چلے آئو
برق گرتي ہي ہوش اڑانے کيلئے ہے
تجھے کو نہيں معلوم کہ ميں جان چکا ہوں
تو ساتھ فقط ساتھ نبھانے کيلئے ہے
رموز عشق کوئي پروانے ہے سيکھے
شمع تو جلتي ہے اسے جلانے کيلئے ہے
|